3 جون 2014 - 08:50
تصویر: شامی صدر بشار اسد نے اپنا ووٹ ڈال دیا

شام کے صدر نے بشاراسد اور پانچ سو علماء نے دمشق میں اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔

ابنا: رپورٹ کےمطابق شام کےسیکڑوں علماء اہلسنت اور علماء اہل تشیع نے دمشق میں اجتماعی طور پر اپنے ووٹ ڈالے۔ مہرنیوزایجنسی کی رپورٹ کےمطابق صدر بشار اسد اور ان کے مدمقابل صدارتی امیدوار ماہر حجار نے بھی اپنے حق را‏ئے دہی کا استعمال کیا۔ صدر بشاراسد نے دمشق کے المالکی علاقے میں اپنےووٹ ڈالے۔ واضح رہے کہ آج شام کے مختلف علاقوں میں سخت سیکورٹی انتظامات کی نگرانی میں صدارتی انتخابات کےلئے عوام اپنے حق رائے دہی کا استعمال کررہے ہيں۔ مقامی وقت کے مطاق آج سات بجے ووٹنگ کاسلسلہ شروع ہوا جوبارہ گھنٹوں تک جاری رہے گا اور اگر ضرورت پیش آئی تو پولنگ کے وقت میں گھنٹوں کی توسیع کی جاسکتی ہے۔ شام اور بیرون شام، ایک اعشاریہ پانچ کروڑ شامی شہری ووٹ ڈالنے کی صلاحیت کے حامل ہيں۔ملک بھر میں تقریبا نو ہزارچھ سو پولنگ اسٹیشن قائم کئےگئے ہيں۔صدر بشار اسد تیسری بار صدارتی انتخابات لڑ رہے ہیں۔اس بار ان کا مقابلہ ماہرعبدالحافظ اور حسن عبداللہ النوری سے ہے۔شام میں ہونے والے یہ انتخابات غیرملکی حمایت یافتہ دہشتگردگروہوں کی کافی حد تک پسپائی کے بعد ہو رہا ہے۔ شام میں جاری اس خانہ جنگی میں ایک لاکھ سے زائد افراد مارے جاچکے ہیں جبکہ لاکھوں لوگ بےگھر ہوگئے ہیں۔ شامی وزیراعظم وائل الحلقی نے کہا ہے کہ انتخاب کا دن شام کے لئے تاریخی دن ہے اور کثیرتعداد میں ووٹروں کی آمد دنیا پر یہ ثابت کردےگی کہ شام کے عوام نے فیصلہ کرلیا ہے اور وہ کامیاب بنانے کے پابند ہيں۔جبکہ غیرملکی حمایت یافتہ دہشتگردگروہوں نے انتخابات کے بائکاٹ کا اعلان کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ وہ اس الیکشن میں خلل ڈالیں گے۔

مقامی وقت کے مطابق، حکومت کے زیر کنٹرول علاقوں میں ووٹنگ منگل کی صبح 7 بجے شروع ہوئی۔

حکام کا کہنا ہے کہ پولنگ اسٹیشن 12 گھنٹوں تک کھلے رہیں گے، اور اگر ضرورت ہوئی تو پولنگ کے وقت میں پانچ گھنٹوں کی اور توسیع کی جا سکتی ہے۔

شام اور بیرون شام کل 1.5 کروڑ شامی شہری ووٹ ڈالنے کے مستحق ہیں، ملک بھر میں تقریبا 9 ہزار 6 سو پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں۔

صدارتی انتخاب میں موجودہ صدر بشار اسد تیسری بار اس عہدے کے لیے میدان میں ہیں، اس مرتبہ ان کا مقابلہ ماہر عبدالحافظ حجار اور حسن عبداللہ النوری سے ہے۔

شام میں یہ صدارتی انتخاب تقریبا تین سال سے جاری بحران میں غیر ملکی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہوں کی کافی حد تک پسپائی کے بعد ہو رہا ہے۔

واضح رہے کہ اس خانہ جنگی میں ایک لاکھ سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں جبکہ لاکھوں بے گھر ہو گئے ہیں۔

شامی الیکشن کمیشن نے بعض ممالک کی جانب سے اس انتخاب کے بائکاٹ کو مسترد کر دیا ہے۔

صدارتی انتخاب کے لیے سرکاری طور پر مہم پیر کو ختم ہو گئی اور دمشق سمیت تمام علاقوں سے امیدواروں کی تصاویر، پوسٹرز اور بینرز ہٹا لیے گئے۔

در ایں اثنا، شام کے وزیر اعظم وائل الحلقی نے کہا کہ انتخاب کا دن شام کے لیے تاریخی دن ہے اور کثیر تعداد میں ووٹروں کی آمد دنیا کو یہ ثابت کر دے گي کہ شام کی عوام نے فیصلہ کر لیا ہے اور وہ انتخابی عمل کو کامیاب بنانے کے لیے پایبند ہے۔

دوسری جانب غیر ملکی حمایت یافتہ تکفیری دہشت گرد گروہوں نے الیکشن کے بائکاٹ کا اعلان کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ وہ اس انتخاب میں خلل ڈالیں گے۔

اس الیکشن کی کوریج کے لیے دنیا بھر سے بڑی تعداد میں نامہ نگار شام میں موجود ہیں۔

.......

/169